"میں ہوں سلطان بن تاج… یہ ہے اُردو نگر…" ذرا ٹھہریئے… اپنے دلوں کو مضبوطی سے تھام لیجیے… کیوں کہ جو آپ سننے جا رہے ہیں وہ فقط ایک غزل نہیں… یہ ڈھلتی پہر کا سایہ ہے— وہ سایہ جو دل پر رکھا جائے تو دھڑکنیں اپنی رفتار بھول جاتی ہیں۔ محبت کے وہ لمس… وہ کرب… وہ پہلی ٹھنڈی آہ— سب کچھ اس ایک غزل میں سانس لے رہا ہے۔ آئیے… اب چلتے ہیں اُس سمت جہاں لفظ نہیں، زخم بولتے ہیں۔ ڈھلتی سہ پہر کا سایہ ہوں میں ڈھل جاؤں گا تیری دنیا سے بہت جلد نکل جاؤں گا تم کہ سورج ہو تیرا میرا تقابل کیسا میں کہ اک برف کا پیکر ہوں پگھل جاؤں گا زخم تریاق کو چھوتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں اب بھی امید یہ رکھتے ہو م سنبھل جاؤں گا تم مجھے دیکھ کے نہ رستہ بدلنا صاحب میں تجھے دیکھ کے خود رستہ بدل جاؤں گا اب نہ چیخیں گے دریچے میرے ارمانوں کے میں کہ اب موت کھلونے سے بہل جاؤں گا